میرے بارے میں
اسلام سب کے لیے — تعلیم، تحریر اور تدریس کا مختصر تعارف
ناعمہ صہیب نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامک اسٹڈیز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ متعدد کتب کی مصنفہ ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں سے تصنیف و تالیف کے میدان سے وابستہ ہیں۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے دینِ اسلام، تاریخِ اسلام، سماجی رویوں اور بچوں کی تربیت جیسے متنوع موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔
ان کی معروف کتاب "تاریخِ اسلام کی عظیم شخصیات" کے پانچ ایڈیشن فضلی سنز، کتاب سرائے اور منشورات (انڈیا) کے تحت شائع ہو چکے ہیں، جبکہ اس کے انگریزی تراجم بھی دستیاب ہیں۔ تصنیف کے ساتھ ساتھ وہ قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔
تصانیف
- 1.تاریخِ اسلام کی عظیم شخصیات (انگریزی ترجمے آن لائن دستیاب ہیں)
- 2.اسلامی تاریخ کی قابلِ فخر شخصیات
- 3.دورِ حاضر میں بچوں کی تربیت
- 4.جھلمل (بچوں کے لیے)
- 5.جگمگ (بچوں کے لیے)
- 6.رم جھم (بچوں کے لیے)
- 7.دین سب کے لیے (سادہ زبان میں دین کی بنیادی تعلیمات)
- 8.بچوں کی کہانیاں (صحت و صفائی سے متعلق، بیٹھک اسکول پراجیکٹ)
- 9.سترہ دینی و معاشرتی موضوعات پر مشتمل مختصر پمفلٹس
- 10.اصلی دشمن (انسانیت شیطان کے نرغے میں)
- 11.بچوں کی سیرت سیریز
- میرے نبیؐ میرے دوست
- میرے نبیؐ میرے راہنما
- میرے نبیؐ میرے محسن
- میرے نبیؐ میرے استاد
- میرے نبیؐ رحمت للعالمین
ذاتی نوٹ
میرا تعلق ایک دینی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ بچپن ہی سے اسلام، تاریخ اور اردو ادب سے خاص دلچسپی رہی، جو وقت کے ساتھ مزید بڑھتی گئی۔ مختلف موضوعات پر گھنٹوں مطالعہ کرنا میرا معمول بن گیا، بالخصوص دینی علوم کے حصول کا شوق دل میں راسخ ہو گیا۔
اگرچہ میں نے ریاضی میں گریجویشن کی، مگر رجحان پھر بھی دینی علوم کی طرف ہی رہا۔ شادی کے بعد یہ سفر مزید آگے بڑھا۔ خوش قسمتی سے میرے شوہر فکری طور پر مجھ سے ہم آہنگ تھے۔ انہوں نے میرے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔
اس کے بعد مختلف مقامات سے دروس دینے کی دعوتیں ملنے لگیں۔ اسی دوران شوہر کی ملازمت کے سلسلے میں ہمیں ہانگ کانگ منتقل ہونا پڑا، جہاں مسجد میں اردو زبان میں خواتین کے لیے لیکچرز کا آغاز کیا۔ دو سال بعد پاکستان واپسی ہوئی تو بیٹھک اسکول کے ایک پراجیکٹ کے تحت بچوں کے لیے کہانیاں لکھنے کی پیشکش ہوئی، جسے میں نے قبول کر لیا۔
اس وقت مجھے اپنی تحریری صلاحیت کا اندازہ نہیں تھا، البتہ اپنی بچیوں کو کہانیاں سنانا میرا معمول تھا—کبھی روایتی کہانیاں اور کبھی خود تخلیق کردہ۔ اس پہلے پراجیکٹ کی کامیابی نے مجھے اپنی صلاحیت کا احساس دلایا اور یوں لکھنے کا سفر باقاعدہ شروع ہو گیا۔
انہی دنوں "العلم" والوں کی درخواست پر مسلم ہیروز پر لیکچرز کی ایک سیریز کا آغاز کیا۔ جب اس موضوع پر معیاری مواد دستیاب نہ ہوا تو اپنے شوہر کے اصرار پر خود اس پر کام شروع کیا۔ الحمدللہ، یہ کاوش کامیاب رہی اور یوں تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ جاری ہو گیا، جو آج تک برقرار ہے۔
اس تمام عرصے میں قرآن کلاسز، خصوصاً ہفتہ وار تفسیر کلاس، مسلسل جاری رہیں۔ کراچی سے بحرین تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ طالبات اور سامعین کو کتاب اللہ سے جوڑا جائے اور انہیں شعوری مسلمان بنایا جائے۔ مستند دینی مواد کی فراہمی اور قرآن و سنت کی روشنی میں عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا میری ترجیحات میں شامل ہے۔
جب میں اس سفر پر پلٹ کر ایک نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق اور مدد کے بغیر ممکن نہ تھا۔
اگرچہ والدین سے پڑھنے لکھنے کا شوق وراثت میں ملا لیکن صحیح معنوں میں میرے شوہر کی بھرپور حمایت ہمیشہ شاملِ حال رہی۔ چاروں بچیوں نے ہر طرح تعاون کیا اور اللہ تعالیٰ نے بہترین ساتھی بھی عطا فرمائے، جن پر اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
کسی بھی موضوع پر رائے، سوال یا دل کی بات شیئر کرنے کی خواہش ہو تو بلا جھجھک naimasohaib@yahoo.com پر مجھے لکھ بھیجیں— آپ کا ہر پیغام پڑھنامیرے لیے باعث مسرت ہو گا، انشاء اللہ۔
